کیا کر گیا اک جلوہ مستانہ کسی کا
-
کیا کر گیا اک جلوہ مستانہ کسی کا رکتا نہیں زنجیر سے دیوانہ کسی کا کہتا ہے سرِ حشر یہ دیوانہ کسی کا جنت سے الگ چاہیے ویرانہ کسی کا آپس میں الجھتے ہیں عبث شیخ و برہمن کعبہ نہ کسی کا ہے، نہ بت خانہ کسی کا بے ساختہ آج ان کے بھی آنسو نکل آئے دیکھا نہ گیا حالِ فقیرانہ کسی کا یوں عالم نہ کر کیفِ غمِ عشق کو، اے دل! کم بخت!یہ مے خانہ ہے مے خانے کسی کا ا س کو بھی جگر دیکھ لیا خاک میں ملتے وہ اشک جو تھا گوہرِ یک دانہ کسی کا