جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

نالہ پابندِ نفس، اے دلِ ناشاد نہیں

    نالہ پابندِ نفس، اے دلِ ناشاد نہیں یہ تو فریاد کی توہین ہے، فریاد نہیں اب یہ کیا بات کہ آباد نہیں شاد نہیں؟ دل گزر گاہ تری ہے، تجھے کیا یاد نہیں تجھ سے، اے دوست کوئی شکوۂ بیداد نہیں دل ستم ساز ہے خود، تو ستم ایجاد نہیں دور ہے منزلِ عرفانِ خودی اور یہاں بے خودی کاہے یہ عالم کہ خدا یاد نہیں پھونک دے قیدِ تعین کو بھی اے برقِ جمال دل ہے آزاد، نگاہیں کہ ابھی آزاد نہیں دیکھنا بے خودی عشق کا اعجاز، جگر کہہ رہا ہوں وہ فسانہ، جو مجھے یاد نہیں