جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

یہ راز ہم پر ہوا نہ افشا، کسی کی خاص اک نظر سے پہلے

    یہ راز ہم پر ہوا نہ افشا، کسی کی خاص اک نظر سے پہلے کہ تھی ہماری ہی کم نگاہی، ہمیں تھے کچھ بے خبر سے پہلے کہاں کہاں اُڑ کے پہنچے شعلے، یہ ہوش کس کو، یہ کون جانے؟ ہمیں بس اتنا ہے یاد اب تک، لگی تھی آگ اپنے گھر سے پہلے !قفس کی نازک سی تیلیوں کی بھی کچھ حقیقت ہے، ہم صفیرو مگر الجھنا پڑے گا شاید، خو اپنے ہی بال و پر سے پہلے !کہاں یہ شورش، کہاں یہ مستی، کہاں یہ رنگینیون کا عالم زمانہ خواب و خیال سا تھا ترے فسونِ نظر سے پہلے زمانہ مانے نہ مانے، لیکن ہمیں یہی ہے یقینِ کامل جہاں اٹھا کوئی تازہ فتنہ، اٹھا تری رہگزر سے پہلے اٹھا جو چہرے سے پردۂ شب، سمٹ کے مرکز پہ آ گئے سب تمام جلوے جو منتشر تھے، طلوعِ حسنِ بشر سے پہلے بس ایک دل اور کیف و لذ ت، بس ایک ہم اور جمالِ فطرت یہ زندگی کس قدر حسیں تھی، شعور و فکر و نظر سے پہلے ہمارے شوقِ جنوں ادا کی، ستم ظریفی تو کوئی دیکھے کہ مانہ بر کو روانہ کر کے پہنچ گئے نامہ بر سے پہلے