رند جو مجھ کو سمجھتے ہیں، انہیں ہوش نہیں
-
رند جو مجھ کو سمجھتے ہیں، انہیں ہوش نہیں مے کدہ ساز ہوں میں، مے کدہ بردوش نہیں پاؤں اٹھ سکتے نہیں منزلِ جاناں کے خلاف اور اگر ہوش کی پوچھو تو مجھے ہوش نہیں حسن سے عشق جدا ہے، نہ جدا عشق سے حسن کون سی شے ہے جو آغوش در آغوش نہیں مٹ چکے ذہن سے سب یادِ گزشتہ کے نقوش پھر بھی اک چیز ہے ایسی کہ فراموش نہیں اب تو تاثیرِ غمِ عشق یہاں تک پہنچی کہ ادھر ہوش اگر ہے تو اُدھر ہوش نہیں زیست ہے زیست جو رگ رگ میں رواں ہے مئے عشق موت ہے موت اگر رقص نہیں، جوش نہیں