جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

کیا غرض مجھ کو ترے دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    کیا غرض مجھ کو ترے دل پہ اثر ہے کہ نہیں میں پرستارِ محبت ہوں، خبر ہے کہ نہیں اب یہ عالم ہے کہ جو ہجر کی شب آتی ہے میں یہ کہتا ہوں کہ اس شب کی سحر ہے کہ نہیں تو ہی کہہ دے کہ جنوں مجھ کو نہ کیونکر ہو عزیز اس کو حاصل تری تائیدِ نظر ہے کہ نہیں اک نظر دیکھ تو لے، دل کو مٹانے والے ابھی اس خاک میں طوفانِ شرر ہے کہ نہیں پوچھتا پھرتا ہوں اک ایک سے اس کوچے میں جس کا دیوانہ ہوں اس کو بھی خبر ہے کہ نہیں لے اٹھا جاتا ہوں میں جھاڑ کے دامن اپنا پھر نہ کہنا مر ادیوانہ جگر ہے کہ نہیں؟