جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

یہ سب جو حسنِ حقیقت پہ ہیں حجاب اٹھا

    یہ سب جو حسنِ حقیقت پہ ہیں حجاب اٹھا نظر کو ہے جو اٹھانا تو کامیاب اٹھا نشانِ منزلِ جذبِ تمام چھپ نہ سکا اِدھر فنا ہوا قطرہ، ادھر حباب اٹھا جہانِ حسن سے تکمیلِ تشنگی کر لے ابھی نظر سے نہ یہ پردہ سراب اٹھا رہِ طلب میں نہ کر خوف لغزشِ پاسے یہاں جو گر کے اٹھا، بس وہ کامیاب اٹھا کدھر سے برق چمکتی ہے، دیکھیں، اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا قریب ساعتِ وصل آ چکی ہے اب تو جگر نچوڑ دامنِ تر، دیدۂ پر آب اٹھا