جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں

    نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں ہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں جو دل سے اٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کر تمام منظرِ فطرت پہ چھائے جاتے ہیں رواں دواں کیے جاتی ہے آرزوئے وصال کشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں کہاں منازلِ ہستی، کہاں ہم اہلِ فنا ابھی کچھ اور یہ تہمت اٹھائے جاتے ہیں مری طلب بھی، اسی کے کرم کا صدقہ ہے قدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں