جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

محبت صلح بھی، پیکار بھی ہے

    محبت صلح بھی، پیکار بھی ہے یہ شاخِ گل بھی ہے، تلوار بھی ہے یہ فتنے، جن سے اک دنیا ہے نالاں انہی سے گرمیِ بازار بھی ہے جنون کے دم سے ہے نظمِ دو عالم جنوں برہم زنِ افکا ر بھی ہے نفس پر ہے مدارِ زندگانی نفس چلتی ہوئی تلوار بھی ہے اسی انسان میں سب کچھ ہے پنہاں مگر یہ معرفت دشوار بھی ہے یہی دنیا ہے بستی آنسوؤں کی یہی دنیا تبسم زار بھی ہے