اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
تو پھر یہ کیسے کٹے زندگی، کہاں گزرے
ہر اک مقامِ محبت بہت ہی دلکش تھا
مگر ہم اہلِ محبت کشاں کشاں گزرے
جنوں کے سخت مراحل بھی تیری یاد کے ساتھ
حسیں حسیں نظر آئے، جواں جواں گزرے
مری نظر سے تری جستجو کے صدقے میں
یہ اک جہاں ہی نہیں، سینکڑوں جہاں گزرے
خطا معاف زمانے سے بد گماں ہو کر
تری وفا پہ بھی کیا کیا ہمیں گماں گزرے
بہت حسین مناظر بھی حسنِ فطرت کے
نہ جانے آج طبیعت پہ کیوں گراں گزرے
کبھی کبھی تو اسی ایک مشتِ خاک کے گرد
طوا ف کرتے ہوئے ہفت آسماں گزرے
جنہیں کہ دیدۂ شاعر ہی دیکھ سکتا ہے
وہ انقلاب ترے سامنے کہاں گزرے