یک لحظہ خوشی کا جب انجام نظر آیا
-
یک لحظہ خوشی کا جب انجام نظر آیا شبنم کو ہنسی آئی، دل غنچوں کا بھر آیا یہ کون تصور میں ہنگامِ سحر آیا محسوس ہوا جیسے خود عرش اتر آیا اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا اس جانِ تغافل نے پھر یاد کیا شاید پھر عہدِ محبت کا ہر نقش ابھر آیا گلشن کی تباہی پر کیوں رنج کرے کوئی؟ الزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا یہ محفلِ ہستی بھی کیا محفلِ ہستی ہے جب کوئی اٹھا پردہ، میں خود ہی نظر آیا