جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

شاعرِ فطرت ہوں میں، جب فکر فرماتاہوں میں

    شاعرِ فطرت ہوں میں، جب فکر فرماتاہوں میں روح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں آ کہ تجھ بن اس طرح، اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں جس قدر افسانہ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانہ ہستی ہوا جاتا ہوں میں واہ رے شوقِ شہادت! کوئے قاتل کی طرف گنگناتا، رقص کرتا، جھومتا جاتا ہوں میں میری خاطر اب وہ تکلیفِ تجلی کیوں کریں؟ اپنی گردِ شوق میں خود ہی چھپا جاتا ہوں میں دیکھنا اس عشق کی یہ طرفہ کاری دیکھنا وہ جفا کرتے ہیں مجھ پر اور شرماتا ہوں میں