جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

دل کیا ہے؟ نقش حسنِ حقیقت طراز کا

    دل کیا ہے؟ نقش حسنِ حقیقت طراز کا آئینہ کیا ہے، عکس ہے آئینہ ساز کا عالم نہ پوچھ عشق کی شانِ نماز کا کونین ایک ذرہ ہے خاکِ نیاز کا اللہ رے اثر نگہِ مستِ ناز کا ہر پردہ ارتعاش میں ہے دل کے ساز کا مجھ سے گناہ گار پہ یہ بارشِ کرم منہ دیکھتا ہوں رحمتِ عاجز نواز کا صوفی نے جس کو شاہدِ مطلق سمجھ لیا اک پرتوِ لطیف تھا حسنِ مجاز کا تنہائیِ فراق میں کیوں گریہ کیجئے اے دل! یہ وقتِ خاص ہے راز و نیاز کا