اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عا م نہیں یارب! یہ مقامِ عشق ہے کیا؟ گو دیدہ و دل ناکام نہیں تسکین ہے اور تسکین نہیں، آرام ہے اور آرام نہیں کیوں مستِ شرابِ عیش و طرب تکلیفِ توجہ فرمائیں؟ آوازِ شکستِ دل ہی تو ہے، آوازِ شکستِ جام نہیں عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکستِ فاش اپنی دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے، تنہا یہ نظر کا کام نہیں سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ ہے تو اسیری ہی لیکن وہ کون سی آزادی ہے یہاں، جو آپ خود اپنا دام نہیں دنیا یہ دکھی ہے پھر بھی مگر، تھک کر ہی سہی، سو جاتی ہے تیرے ہی مقدر میں اے دل، کیوں چین نہیں آرام نہیں