جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

دل میں کسی کی راہ کیے جار ہا ہوں میں

    دل میں کسی کی راہ کیے جار ہا ہوں میں کتنا حسین گناہ کیے جا رہا ہوں میں فردِ عمل سیاہ کیے جارہا ہوں میں رحمت کو بے پناہ کیے جا رہا ہوں میں ایسی بھی اک نگاہ کیے جا رہا ہوں میں ذروں کو مہر و ماہ کیے جا رہا ہو ں میں مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند خود حسن کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں اٹھتی نہیں نگاہ مگر اس کے روبرو نادیدہ اک نگاہ کیے جا رہا ہوں میں گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نبھاہ کیے جا رہا ہوں میں یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر جیسے کوئی گناہ کیے جا رہا ہوں میں مجھ سے ادا ہوا ہے جگر جستجو کا حق ہر ذرے کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں