جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

دل ہی نہیں تو کام غمِ جاوداں سے کیا

    دل ہی نہیں تو کام غمِ جاوداں سے کیا غم ہی نہیں تو واسطہ عمرِ رواں سے کیا غم کیا ملا کہ دولتِ کونین مل گئی ہٹتے ہیں اب یہ ہاتھ دلِ ناتواں سے کیا چہر ہ بھی زرد زرد، نظر بھی اداس اداس یہ حال ہو تو فائدہ ضبطِ فغا ں سے کیا مطرب مزاج دانِ محبت نہیں مگر نغمہ یہ اس نے چھیڑ دیا درمیاں سے کیا خود حسن کی زبان ہو اور داستانِ عشق اپنا بیانِ درد خود اپنی زباں سے کیا معلوم ہے سب ایک نظر کے فریب ہیں الجھے نگاہِ شوق زمان و مکاں سے کیا