جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عشق، پھیلے تو زمانہ رہے یہ کس کا تصور ہے، یہ کس کا فسانہ ہے؟ جو اشک ہے آنکھو ں میں، تسبیح کا دانہ ہے ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسا نہ ہے رونے کو نہیں کوئی، ہنسنے کو زمانہ ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے؟ ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے یا وہ تھے خفا ہم سے، یا ہم ہیں خفا ان سے کل ان کا زمانہ تھا، آج اپنا زمانا ہے یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجیے اک آگ کا دریا ہے، اور ڈوب کے جانا ہے تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غمِ جاناں اک نقش چھپانا ہے، اک نقش دکھا نا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے