آدمی، آدمی سے ملتا ہے
-
آدمی، آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے سلسلہ فتنہ قیامت کا تری خوش قامتی سے ملتا ہے مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے کاروبارِ جہاں سنورتے ہیں ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے روح کو بھی مزا محبت کا دل کی ہمسائیگی سے ملتا ہے