کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر، کبھی غنچہ و گل و خار پر
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر، کبھی غنچہ و گل و خار پر میں چمن میں چاہے جہاں رہوں، مرا حق ہے فصلِ بہار پر مرے اشکِ خوں کی بہار ہے کہ مرقعِ غمِ یار ہے مری شاعری بھی نثار ہے، مری چشمِ سحر نگار پر عجب انقلابِ زمانہ ہے، مرا مختصر سا فسا نہ ہے یہی اب جو بار ہے دوش پر،یہی سر تھا زا نوائے یار پر یہ کمالِ عشق کی سازشیں، یہ جمالِ حسن کی نازشیں یہ عنایتیں، یہ نوازشیں، مری ایک متِ غبار پر مری سمت سے اسے اے صبا! یہ پیامِ آخرِ غم سنا ابھی دیکھنا ہو تو دیکھ جا کہ خزاں پے اپنی بہار پر یہ فریبِ جلوہ ہے سر بہ سر، مجھے ڈر یہ ہے دل بے خبر کہیں جم نہ جائے تری نظر، انہیں چند نقش و نگار پر