جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے

    جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے بھاگے لیکن راہ نہ پائے کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟ اپنے ہی جلوے، اپنے ہی سائے جھوٹی ہے ہر ایک مسرت روح اگر تسکین نہ پائے نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے راہِ جنوں آسان ہوئی ہے زلف و مژہ کے سائے سائے