جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

عشق کی اپنی داستان ہے پیارے

    عشق کی اپنی داستان ہے پیارے اپنی اپنی زبان ہے پیارے کل تک اے درد! یہ تپاک نہ تھا آج کیوں مہربان ہے پیارے؟ اس کو کیا کیجئے جو لب نہ کھلیں یوں تو منہ میں زبان ہے پیارے عشق کیاایک ایک نادانی! علم وحکمت کی جان ہے پیارے رکھ قدم پھونک پھونک کر ناداں ذرے ذرے میں جان ہے پیارے ہاں ترے عہد میں جگر کے سوا ہر کوئی شادمان ہے پیارے