جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

ندرت پسند کتنے عشاقِ خوش نظر ہیں

    ندرت پسند کتنے عشاقِ خوش نظر ہیں سینے تمام ویراں آنکھیں تمام، تر ہیں رنگینیِ الم میں دیکھا ہے جن کو اکثر اے دل! وہی تو جلوے سرمایۂ نظر ہیں آساں نہیں گزرنا صحرائے بے خودی سے ہشیار، اہلِ تمکیں! رستے یہ پر خطر ہیں اپنا نشاں بتائیں کیا رہرونِ غربت؟ بربادِ جستجو ہیں، پامالِ رہ گزر ہیں کیوں آسماں سے مل کر اپنا وقار کھوئیں کیا کم ہے یہ کہ تیری، ہم خاکِ رہ گزر ہیں ! بزمِ مشاعرہ ہے یا گلشنِ تخیل بلبل چہک رہا ہے یا حضرتِ جگر ہیں