شبِ فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے
شبِ فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے کچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے نقابِ حسنِ دو عالم اٹھائی جاتی ہے مجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہے بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے ضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے وہ اک نظر جو بہ مشکل اٹھائی جاتی ہے وہی نظر رگ و پے میں سمائی جاتی ہے سکوں ہے موت یہاں ذوق جستجو کے لیے یہ تشنگی وہ نہیں جو بجھائی جاتی ہے وہ مے کدہ ہے تری انجمن، خدا رکھے جہاں خیال سے پہلے پلائی جاتی ہے گناہگار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے فریبِ منزلِ آخر ہے الفراق جگر سفر تمام، نیند آئی جاتی ہے