جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

پیوست دل میں جب تراتیرِ نظر ہوا

    پیوست دل میں جب تراتیرِ نظر ہوا کس کس ادا سے شکوہ دردِ جگر ہوا کچھ داغِ دل سے تھی مجھے امید عشق میں سو رفتہ رفتہ وہ بھی چراغِ سحر ہوا سینے میں پھڑ پھڑانے لگی آتشِ فراق دامن سے پھر معاملۂ چشمِ تر ہوا رگ رگ نے صدقے کر دیا سرمایۂ شکیب اللہ! کس کا خانۂ دل میں گزرا ہوا فریاد کیسی؟ کس کی شکایت؟ کہاں کا حشر دنیا ادھر کو ٹوٹ پڑی وہ جدھر ہوا وارفتگئی شوق کا اللہ رے کمال جو بے خبر ہوا، وہ بڑا باخبر ہوا