جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

فتنہ روزگار میں امن ہے کیا، قرار کیا

    فتنہ روزگار میں امن ہے کیا، قرار کیا حاصلِ زیست غم سہی، غم کا بھی اعتبار کیا تیری نصیحتیں بجا، یہ بتا، اے ناصحا اور ہے عشق کے سوا مقصدِ حسنِ یار کیا عشقِ خزاں مزاج سے لطفِ جمال پو چھیے جن کی نظر ہے خود بہار، ان کے لیے بہار کیا ناز سے مسکرا کے دیکھ چشمِ حیا اٹھا کے دیکھ دل سے حریف کے لیے نیچی نظر کا وار کیا کارِ عظیم چاہیے، طبعِ سلیم چاہیے عزمِ صمیم چاہیے، فکرِ مآلِ کار کیا منزلِ عشق میں جگر! غیر تو پھر بھی غیر ہیں دل پر بھی اعتماد کیوں، اپنا بھی اعتبار کیا