وہ مست ہوں کہ الٹ دی جب آستیں میں نے
-
وہ مست ہوں کہ الٹ دی جب آستیں میں نے دکھا دیے حرم و دیر سب یہیں میں نے بنا یا عشق کو یوں حسن آفریں میں نے تجلیاں رخِ فطرت سے چھین لیں میں نے چھپا کے دل میں غم ِ اشک آفریں میں نے بنا تو لی ہے ستاروں کی سرزمیں میں نے کبھی یہ وہم کہ میں کیا ہوں، میرا سجدہ ہی کیا کبھی یہ فکر، جھکا دی اگر جبیں میں نے نہ حسن سے کوئی مطلب، نہ عشق سے سروکار کچھ اس طرح کی بھی گھڑیاں گزاردیں میں نے ! مری یہ فطرتِ معصومِ عشق، ارے توبہ کسی نے جو بھی کہا، کر لیا یقیں میں نے