دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
-
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد جب کوئی حسیں ہوتاہے سرگرمِ نوازش اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد کیا جانئے کیا ہو گیا اربابِ جنوں کو مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی اد ا یاد مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں کیجیے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد