جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

ترے جلووں میں گم ہو کر جہاں اندر جہاں ہونا

    ترے جلووں میں گم ہو کر جہاں اندر جہاں ہونا مبارک عمرِ رفتہ کو حیاتِ جاوداں ہونا تماشا دیدنی ہے دیکھ لیں اہلِ نظر آ کر مرے ہمراہ منزل کا بھی گردِ کارواں ہونا لہو کا قطرہ قطرہ بن گیا لو شمعِ وحدت کی بجا ہے اب مرا پروانہ آتش بجاں ہونا کسی کے سامنے وہ میری عرضِ شوق کا عالم مرے ذراتِ ہستی کا مسلسل داستاں ہونا کسی دریائے بے تابی کا سینے میں سمٹ آنا کبھی ہر اشک کے قطرے کا بحرِ بیکراں ہونا سنا ہے ہر طرف لٹتے ہیں جلوے حسنِ صوررت کے کبھی تم بھی جگر آوارہ کو ئے بتاں ہونا