جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

    ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں میری زباں پہ شکوۂ اہلِ ستم نہیں مجھ کو جگا دیا، یہ احسان کم نہیں یارب ہجومِ درد کو دے اور وسعتیں دامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاً تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں اب عشق اس مقام پر ہے جستجو نورد سایہ نہیں جہاں، کوئی نقشِ قدم نہیں زاہد کچھ اور ہونہ ہو مے خانے میں مگر کیا کم ہے یہ کہ فتنہ دیر و حرم نہیں