جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے

    آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے بات جس کی ہے اسی آفتِ جاں تک پہنچے جب ہر اک شورشِ غم ضبطِ فغاں تک پہنچے پھر خدا جانے، یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرتِ واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو درِ پیرِ مغاں تک پہنچے تو میرے حالِ پریشاں پہ بہت طنز نہ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ، کہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے، وہ اہلِ سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے جلوے بے تاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگر خود تڑپ کر مری چشمِ نگراں تک پہنچے