کسی صورت تمودِ سوزِ پنہائی نہیں جاتی
کسی صورت تمودِ سوزِ پنہائی نہیں جاتی بجھا جاتا ہے دل، چہرے کی تابانی نہیں جاتی نہیں جاتی، کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی صداقت ہو تودل سینوں سے کھینچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے، مانی نہیں جاتی مزاجِ اہلِ دل بے کیف و مستی رہ نہیں سکتا کہ جیسے نکہتِ گل سے پریشانی نہیں جاتی نہیں معلوم کسی عالم میں حسنِ یار دیکھا تھا کوئی عالم ہو، لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی محبت میں ایک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی