بے حجابی کو حجابِ درمیاں سمجھا تھا میں
بے حجابی کو حجابِ درمیاں سمجھا تھا میں سامنے کی بات تھی لیکن کہاں سمجھا تھا میں عشق کی بربادیوں کو رائیگا ں سمجھا تھا میں بستیاں نکلیں جنہیں ویرانیاں سمجھا تھا میں شادباش و زندہ باش اے عشقِ خوش سودائے من تجھ سے پہلے اپنی عظمت بھی کہاں سمجھا تھا میں کیا خبر تھی خود وہ نکلیں گے برابر کے شریک دل کی ہردھڑ کن کو اپنی داستاں سمجھا تھا میں کیا بتاؤں کس قدر زنجیرِ پا ثابت ہوئے چند تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں میری ہی رودادِ ہستی تھی مرے ہی سامنے آج تک جو کو حدیثِ دیگراں سمجھا تھا میں