جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

یہ ذرے جن کو ہم خاکِ رہ ِ منزل سمجھتے ہیں

    یہ ذرے جن کو ہم خاکِ رہ ِ منزل سمجھتے ہیں زبانِ حال کہتے ہیں، زبانِ دل سمجھتے ہیں حقیقت میں جو رازِ دورئ منزل سمجھتے ہیں انہی کو ہم سلوکِ عشق میں کامل سمجھتے ہیں اسی اک جرم پر اغیار میں برپا قیامت ہے کہ ہم بیدار ہیں اور اپنا مستقبل سمجھتے ہیں نگاہوں میں کچھ ایسے بس گئے ہیں حسن کے جلوے کوئی محفل ہو لیکن ہم تری محفل سمجھتے ہیں کوئی مانے نہ مانے اس کو لیکن اک حقیقت ہے ہم اپنی زندگی میں عیب کو شامل سمجھتے ہیں یہ نرم و ناتواں موجیں خودی کا راز کیا جانیں؟ قدم لیتے ہیں طوفاں، عظمتِ ساحل سمجھتے ہیں