حسن کے احترام نے مارا
-
حسن کے احترام نے مارا عشقِ بے ننگ و نام نے مارا وعدہ ناتمام نے مارا روز کے صبح و شام نے مارا عشق کی سادگی تو ایک طرف شوق کے اہتمام نے مارا اللہ اللہ نفس کی آمد و شد اس پیام و سلام نے مارا عشق مرتا نہ اپنی موت سے آہ عاشقانِ کرام نے مارا کاش وہ عمرِ خضر بن جاتے جن خیالاتِ خام نے مارا