دل نے کچھ ایسی دھن میں آج نگمہ شوق گا دیا
دل نے کچھ ایسی دھن میں آج نگمہ شوق گا دیا عشق بھی جھوم جھوم اٹھا، حسن بھی مسکرا دیا مجھ کو خدائے عشق نے جو بھی دیا، بجا دیا اتنی ہی تابِ ضبط دی، جتنا کہ غم سوا دیا شکوہ کریں ترا کہ شکر، ہائے اے التفاتِ دوست جو نہ کہیں بھی جھک سکا، تو نے وہ سر جھکا دیا تو مرے دل کی دھڑکنیں، رہنے دے چارہ گر یونہی ہاں انہی دھڑکنوں نے تو مجھ کو مرا پتا دیا قسمتِ حسن و عشق سے مجھ کو نہیں ہے گلہ تجھ کو غرور اگر دیا، مجھ کو بھی حوصلہ دیا بیٹھے ہیں سر جھکائے کیوں، خاکِ مزار پر وہ اب خاک سے پھر غرض ہی کیا خاک میں جب ملا دیا