جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی

محبت کا بلا ٓخر رقصِ بے تابا نہ کام آیا

    محبت کا بلا ٓخر رقصِ بے تابا نہ کام آیا نگاہِ شرمگیں اٹھی، سلام آیا، پیام آیا جہادِ زندگانی میں جب کوئی مشکل مقام آیا جنوں نے ہی قیادت کی، خلوصِ دل ہی کام آیا نہ جانے آ ج کس دھن میں زباں پر کس کا نام آیا فضا نے پھول برسائے، ستاروں کا سلام آیا نئی تخریب لازم ہے نئی تعمیر کی خاطر ہوا کیا تو اگر کچھ گرتی دیواروں کو تھام آیا سنبھل کر یوں تو ہم گزرے کسی کی راہ میں لیکن کچھ ایسے بھی مقام آئے کہ گر پڑنا ہی کام آیا مجھے شکوہ نہیں ساقی سے اپنی تشنہ کامی کا مری قسمت میں دل آیا، ترے حصے میں جام آیا