خالدمحمود

خالدمحمود

ستونوں کے ساتھ ٹھہری ہوئی یادیں

     

    یادیں ستونوں سے ٹیک لگائے کھڑی ہیں

    میں ڈھلتی شام میں

    پھولوں کے لِبادے اوڑھے

    انھیں دیکھتا رہتا ہوں،

     

    ایک دل کے سِوا

    شاعر کے پاس

    کھو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا،

    مَیں نے بھی اُسے تمھارے راستے میں کھو دیا،

    اور تمھیں خبر بھی نہ ہوئی،

    راستے مسافروں کا انتخاب نہیں کرتے

    پَیر خود انھیں سفر پر کھینچ لے جاتے ہیں،

    مَیں اِنھیں یادوں کے ساتھ ساتھ

    بارشوں میں بھیگتا پھرا ہوں،

    عجب بات ٹھہری کہ

    تمھاری جانب مڑتے راستوں نے مجھے چُن لیا،

    مَیں تمھارے راستوں پر بھٹکتا پھرا

    اور تمھیں خبر بھی نہ ہوئی،

    تنگ اور تاریک گلیاں

    رات کی بارش

    چَھپ چَھپ اُٹھتے قدم

    کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی

    بھیگا ہوا مَیں،

    نِکھری ہوئی تم،

    دیکھو ۔۔۔۔ !

    مجھے اُس رات کی بارش نے ستونوں کے پاس روک رکھا ہے،

    کیا تمھیں خبر نہیں

    میں وہیں رُکا ہواہوں۔۔۔۔۔