فوٹوگرافر کِیا دیکھتا ہے
تصویر بنانے کے لیے
ایک پھول،ایک چہرے اور ایک خواب کے علاوہ
اپنی گِرہ سے
کیا نکلتا ہے،
تمھارے عکس ہیں
باغیچوں مِیں مہکتے ہوئے
راستوں پر کھڑے ہوئے،
آنکھوں مِیں چَمکتے ہوئے،
تمھارے رَنگ ہیں،
میرے اِردگرد پھیلے ہوئے،
شب و روز سمیٹتا رہتا ہوں،
سنبھالتا رہتا ہوں،
رَنگ جاتا ہوں
بِیتے دنوں کی رنگت میں،
جن کی طرف جھانکنے کے لیے
جو رُوزن ہے،
اُس سے صِرف تم ہی دکھائی دیتے ہو،
جیسے کوئی اُجلا پھول
کسی آنگن میں رہ گیا ہو،
جیسے کہیں راستوں پر
کوئی بھولا ہوا خواب،
جوآنکھیں ڈھونڈتی ہی رہ گئی ہوں ۔۔۔۔