خالدمحمود

خالدمحمود

روتی آنکھ کا منظر

    شبنم اس کی یادوں کی لَمحہ لَمحہ گرتی ہے، رَستے میری آنکھوں کے گیلے ہوتے جاتے ہیں، اپنی اپنی بنیادوں سے منظر گرتے جاتے ہیں، قطرے گرتی شبنم کے دریا بَنتے جاتے ہیں