خالدمحمود

خالدمحمود

تشویش

     

    جِن پرندوں نے

    میرے کمرے کی بیرونی دیوار میں

    گھر بنایا تھا،

    کل شام وہ لوٹ کر نہیں آئے،

    نہ جانے کن ساحلوں کے بھاری پانی نے

    اُن کی زندگی کو ہلکا کر دیا ہے،

    نہ جانے کن انگاروں کو چُنتے

    اُن کے پیٹ راکھ ہوگئے ہیں،

    نہ جانے کس شکاری کے جال نے

    اُن کی پروازوں کو آلیا ہے،

    نہ جانے کن سختیوں کو،

    اُن کی چونچیں نوالا نہیں بنا پائیں،

     

    وہ پرندے، وہ میری صبحوں کے مؤذن،

    وہ میرے اُجالوں کے رفیق،

    جن کے نغمے میرے دن بھر کے سہارے،

    وہ کل شام لوٹ کرنہیں آئے۔