تحفہ
وقت کی فصیلوں سے
تمھارے تعاقب میں نکلے،
ہم، ایسے سادہ دل وحشی ہیں،
جن کی رگوں میں
آسمانوں سے اُتری آگ کے سبب
جنون دوڑتا ہے،
خدا کے جرم کی طرح بے امان، ہم
تمھارے اوہام سے پرے
بہتے ہوئے سمندروں میں
اپنا دامن دھو کر آئے ہیں،
ہماری بند مُٹھّی میں،
رنگین غلافوں میں لِپٹی،
تمھارے جیسی حَسین زندگی ہے،
ہم اپنی جگمگاتی راتوں کے خواب دے کر،
خدا سے اپنے حصّے کی محبت چھین لائے ہیں،
ہم، گمنام وحشی،
صدیوں کی مسافت سے
تمھیں آواز دیتے ہیں،
دیکھو تو ……!
ہم، تمھارے لیے کیا لائے ہیں