خالدمحمود

خالدمحمود

تمھاری یاد کی لَو

    بوسیدہ چھت سے لٹکتی ہوئی،

    مردہ لالٹین کی جگہ

    تمھاری یاد کی لَو ہی بہت ہے،

    میرا گھر جو، میری کائنات ہے

    اس کے لیے

    یہ رونق ہی کافی ہے،

    کبھی لہراتی، ٹمٹماتی ہوئی،

    کہ مَیں دنیا کے بازاروں، چوراہوں

    گلی کوچوں اور چوباروں کی

    روشنی کا کیا کروں گا؟

    جس کے عقب میں

    عریاں ذلّتیں، برہنہ وحشتیں تھرتھراتی ہیں، اور

    جس کے اِس پار، گہری اندھیری گلیوں کے مکین

    دیواروں سے منہ چُھپا کے چلتے ہیں،

    مَیں کیا کروں گا

    اُس روشنی کا، جو

    میری آنکھوں کی مِٹّی میں

    کانٹے بوتی ہے

    جِن کانٹوں کے حاصل سے

    میرے مناظر دھندلا گئے ہیں،

     

    مَیں تو، روشن صُبحوں کا منتظر تھا،

    وہ صُبحیں ……

    جِن کی بیلوں پر،

    اُجلے خواب اور چمک دار اُمّیدیں کِھلتی ہیں،

    راتوں کی نَمی سے،

    جن کے گال اور سُنہرے ہو جاتے ہیں۔