خالدمحمود

خالدمحمود

ایمنیزیا

     

     

    اُس لمحے، مجھے کچھ یاد نہیں آرہا تھا،

    میرے اپنے بِکھرے ہوئے چہرے بھی نہیں،

    جن میں ایک چہرہ میری ماں کا تھا

    اور دوسرا میری اِکلوتی بیٹی کا

    میں نے بہت کوشش کی

    کہ مجھے یاد آجائیں

    اپنے منظروں سمیت میرے راستے، میری گلیاں ، میرے دروازے

    یا وہ دَر و دیوار جن کا لَمس میرے ہاتھوں کی پوروں میں تھا،

    چھت پر گزاری دُپہریں اور محبّت کی پہلی بارشیں،

    روشن دانوں میں غٹرغوں کرتے کبوتر

    یا آبائی گھر کی وہ سوندھی باس

    جو اب تک میرے دِماغ میں سمائی ہوئی تھی،

    میرے پاس یاد کرنے کے لیے

    ایک زندگی تھی ، رنگ برنگی

    جیسے زندگی ہُوا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے تو بچپن کے خواب بھی یاد تھے

    جن کی سِحر بھری فِضا میں

    مَیں آسمانوں کو چھو لیا کرتا تھا

    تتلیاں میرے آس پاس اُڑا کرتی تھیں

    اور شام ڈھلے

    میری جیب جگنووں سے بھر جایا کرتی تھی،

    لیکن، اُس لمحے، مجھے کچھ یاد نہیں آرہا تھا،

    ایسے میں ناجانے کیوں مجھے اپنا نام یاد رہ گیا،

    اور میں خود کو یوں پُکارنے لگا

    جیسے کوئی اپنے بچھڑنے والے کو پُکارتا ہے،

    یا کسی لمبی بے ترتیب قطار سے اپنا نام سُن کر

    اچانک صدا دیتا ہے کہ فُلاں مَیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ فُلاں مَیں ہوں

    " مَیں ہوں ۔۔۔۔ مَیں ہوں " کی تکرار نے

    زندگی اور موت کے بیچ نیم دراز مریضوں کے خوف کو بڑھا دیا تھا،

    پاس کے بستر سے

    کسی مریض نے کہا: " وائرس اِس کے دماغ کو چاٹ گیا ہے "

    لیکن میرے دماغ میں تو ایک گہری خاموشی تھی،

    اور دُور تک ایک تیز سفیدی جس میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا،

    میری ماں کا چہرہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔