خالدمحمود

خالدمحمود

پَیرو ں سے لِپٹی ہوئی گلیاں

    مِرایہ دھڑکتا ہُوا دل جو ، یاں ہے رہے گا، اِنھیں گلیوں میں شادماں ہی مِرے پاؤں کی چاپ سینے پہ اِن کے ہمیشہ صدا بن کے زندہ رہے گی لیے جاؤں گا، مَیں یہی ساتھ اپنے یہ صُبحیں،یہ شامیں،دوپہریں سنہری در و بام سب یہ سلامت رہیں گے، اُجالےیہاں پر اُترتے رہیں گے مِری سانس جب تک کہ، چلتی رہے گی مہک اِن کی مِٹّی کی آتی رہے گی چلاجاؤں گا ، مَیں بھی اک دن اُدھر کو جدھر کو،یہاں سے مسافر گئے، اور اب تک وہ لَوٹے نہیں ہیں مگر، اُن کی یادیں ہمیشہ یہاں سے گزرتی ہیں راہوں کو گُلزار کرکے خوابیدہ آنکھوں کو بیدار کرکے