مَلالِ رَفتہ
جب مُجھے،
میرے اُلجھے ہوئے خواب کی تعبیر
آواز دے رہی تھی،
مَیں گھر سے دُور،
کسی اَنجان راستے پرہانپتا ہوا چلا جارہا تھا،
مجھے کیا خبر تھی،
کہ میرے تعاقب میں رَنگوں سے بھرا
مِیلہ چلا آتا ہے،
میرے پَلٹنے سے پہلے ہی،
ایسی خاموشی نے مُجھے آلیا،
کہ میرے سانس مُجھے اب تک سُنائی دیتے ہیں،
کوئی اپنی بات کہے، تو جواب میں ہُوں ہاں سے گزارا کر لیتا ہوں،
ایک خواب کی گمشدگی
کِتنے سَنّاٹے چھوڑ جاتی ہے
ایک تعبیر کی واپسی
کیسی حیرانی گھیر لاتی ہے
وہ آنکھیں، جِن میں اُتر کر مَیں نے خواب دیکھا تھا،
وہ کہیں سے نہیں بُلاتیں،
اُن کی خَیر خبر کوئی نہیں لاتا،
اب تو بس ، مَیں ہُوں ہاں سے گزارا کر لیتا ہوں