نوسٹیلجیا
ایک عریانی
جس کے آس پاس
جالا بُنتی خلش کو،
جس کے پیچ و تاب میں الجھی ہوس سے،
ٹپکتے خوابوں کو،
جس کے نشیب میں اترتی حیرانی کو،
جس کے فراز کو نا پتی ہوئی مستی کو ،
جس کے رُوئیں رُوئیں سے،
سر پَٹکتی ہوئی بے بسی کے سبب،
مَیں کیا کیا فرض کرتا رہا۔
موسموں کو بازوؤں میں بھینچتے ہوئے،
دور کے سفر کو
راستہ بناتے ہوئے،
گمنام اور بند گلیوں میں آتے جاتے ہوئے،
بند کواڑوں پر ٹھنڈی آہ دھرتے ہوئے،
ایک دنیاکو ساتھ لیے چلتا رہا۔
وہ دنیا جو مجسّم رہی،
وہ دنیا جو ہَوا ہوئی،
وہ دنیا جو بَسی رہی،
اور وہ دنیا جو بَنی نہیں،
کیسے کیسے سائے میں
موہوم زندگی جیتا رہا۔
وہ دنیا، جس کی بہتی ہوئی نالی
تکبّر کی جھاگ اگلتی رہی،
جس کی چِرچراتی ہوئی آوازوں سے،
چَھپ چَھپ بوے ناخوش آتی رہی۔
وہ عریانی،
مَیں جس کے نشیبوں میں حیرانی سے اترتا رہا،
ایک دنیا کے جلو میں
موہوم زندگی جیتا رہا،
اب اْس کے چہرے کی جُھرّیوں سے
گئے دنوں کی کپکپا تی آواز
میرے نام سے لپٹتی ہے
تو میرے کانوں میں آشنائی جاگتی ہے
مَیں، اُس کی خم داری کا مارا ہوا،
اپنے کانوں کی لوئیں مسلتا ہوں، اور
آسمان کو تکتا ہوں