ملّاح اداس ہے
کبھی دریا ملاح کی جاگیرتھا
اب دریا کےتابو ت پر
کُتّے سوئے رہتے ہیں،
دریا کا نوحہ کہتے کہتے
ملّاح تھک گیا ہے،
ایک اَنجانے بوجھ سے اس کی کمر دوہری ہوگئی ہے،
دریا کے کفن کا کوئی کونا ایسا نہیں رہا
جس پر ملّاح کی بھوک درج نہ ہو،
دریاکےسوکھے بدن پر
پیاسی کشتیاں بے سدھ پڑی ہیں،
ریتلی زمین پر ملّاح کا نام لیوا کوئی نہیں ہے
اب اسے ٹوٹے ہوئے پَتواروں کے ڈراونے خواب دکھائی دیتے ہیں،
اس کی وراثت کا کوئی دعویدار نہیں ر ہا
دریائی زمین پراس کی امیدوں نے تیرنا چھوڑ دیا ہے
ملّاح اداس ہے۔۔۔