خالدمحمود

خالدمحمود

مَیں گزرتا ہوں

    کاش، مَیں گزر سکتا

    تمھاری خواب زمینوں سے،

    تمھارے سب مناظرکا،اور

    سب خیالوں کا،

    ایک حِصّہ ہوتا۔

     

    مَیں گزرتا رہتا ہوں،

    جسموں بھرے بازاروں سے،

    آدھی آدھی راتوں کو

    نیند سے جاگی آنکھوں سے،

    اَدھ کھلے دریچوں سے،

    تمھارے گھر کی راہوں سے، اور

    جہاں بھی رستہ پاتا ہوں،

    مَیں گزر ہی جاتا ہوں،

    کاش، مَیں گزر سکتا

    تمھاری خواب زمینوں سے،

    تمھارے سب مناظر کا، اور

    سب خیالوں کا

    ایک حِصّہ ہوتا