بارشوں کے رَتجگے
جن راتوں میں
بارشیں ہوتی ہیں، اُن میں
آہستہ سے پلکیں کھولتی ہوئی،
خراماں خراماں گلیاں مڑتی ہوئی
تمھاری یاد
آگے ہی آگے چلتی ہوئی ،
کہاں لے جاتی ہے،
اپنی نرم پوروں سے
دیواروں کے بُھربُھرے وجودوں کو
ٹٹولتی ہے، جن کے
طاقچوں میں کبھی، خواب نُما چہرے روشن تھے،
ہوا کے سینے پر جُھولتے پردوں کو
تار تار کرتی خوشبوئیں تھیں، اور
دہلیزوں پہ بے دھیان پڑے ہوئے گیت ……
بُوند بُوند گرتے ہوئے لمحوں سے
تمھارے بدن کی خوشبو،
دوڑی چلی آتی ہے، اور
اُن کی نَمی،
ہمار ے خیالوں تک آتی ہے،
بے خوابی میں ……
پچھلے پہر کی آوارگی،
سَستے سگریٹ کے کڑوے کش،
تاریک اور خاموش گلیوں کے چہروں پر
سلام لکھتے،
تارکول کی میلی سڑکوں پر جوتے گِھستے، ہم
بے جوڑ گیتوں کی تانیں اڑاتے چلے جاتے تھے،
بارشیں زندگی کے انبا ر سے
کیسی راتوں کو نکال لاتی ہیں۔