خالدمحمود

خالدمحمود

تمھاری یاد

    تمھاری یاد،

    گلی کے کونے پر ٹھہری

    میرے گھر کی طرف دیکھتی ہے،

    مَیں جب بھی وہاں سے گزرتا ہوں

    مجھ سے پوچھتی ہے،

    ‘‘ کیسے ہو؟’’

    مجھے روکنے کی کوشش کرتی ہے، اور

    کہتی ہے،

    ‘‘ دیکھو! تم یہیں ملے تھے’’

    تمھارے وجود کے قِصّے سناتی،

    تمھاری ذات کے پیچ و خم بتاتی ہے

    دیکھو! کیسے کیسے بہلاتی ہے مجھے ……

     

    مگر کون

    تمھاری یاد کے سہارے

    گلی کے کونے پرٹھہرے،

    کون، زمانے بھر کی آنکھ کا تماشا بنے؟