اُداسی
میری نبضیں مروڑتی
میرے دل کے ِنہاں خانوں میں
سر پٹکتی
ہر طرف پھیلتی ہی جاتی ہے
میری رگوں میں دوڑتی ہے
آنکھوں میں ٹھہر جاتی ہے
اور پلکیں جھپکنے نہیں دیتی۔
اُکھڑتی سانسوں کے ساتھ
پھر بھی بے ترتیب اور ڈوبتی دھڑکنوں میں
تمھارا نام کیسے ترتیب سے لیتا ہوں۔
آسمان سے گرتا سورج
خاموشی میں دبکے درخت
اور گھروں کو لوٹتے پرندے
مجھے اچھے لگتے ہیں
کاش میرا بھی کوئی گھر ہوتا
کوئی راستہ ہوتا
جس پر تمھارے خواب پڑے رہتے
جس پر میری آنکھیں دھری رہتیں
جس پر چلتے ہوئے
تم کبھی مل ہی جاتے۔
اُداسی میرے ہاتھ سہلاتی ہے
اپنے پَلّو سے میرے آنسو بھی پونچھتی ہے
اُداسی پلکیں جھپکنے نہیں دیتی
تمھارے سوا کچھ سوچنے بھی نہیں دیتی